Words of truth {haqiqat ki bate jo zindagi saware} لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Words of truth {haqiqat ki bate jo zindagi saware} لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 14 جون، 2013

‎‫ گرلز کالج میں سرکاري

‫ایک گرلز کالج میں سرکاری تفتیش آئی اور کالج کے سارے کلاسیز میں گھوم گھوم کر لڑکیوںکے بیگ کی تلاشی کرنے لگی ،ایک ایک لڑکی کے بیگ کی تفتیش کی گئی ،کسی بھی پرس میں کتابیں ،کاپیاں اورلازمی اوراق کے علاوہ کوئی ممنوع شے پائی نہیں گئی ، البتہ ایک آخری کلاس باقی رہ گیاتھا ، اوریہی جائے حادثہ تھا ،حادثہ کیاتھا ،اورکیاپیش آیا؟!تفتیشی کمیٹی ہال میں داخل ہوئی اور ساری لڑکیوں سے گذارش کی کہ تفتیش کے لیے اپنا اپنا پرس کھول کر سامنے رکھیں ،ہال کے ایک کنارے ایک طالبہ بیٹھی تھی ،اس کی پریشانی بڑھ گئی تھی ،وہ تفتیشی کمیٹی پردزدیدہ نگاہ ڈال رہی تھی اور شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ۔اس نے اپنے پرس پرہاتھ رکھاہوا تھا !!تفتیش شروع ہوچکی ہے ،اس کی باری آنے ہی والی ہے ،لڑکی کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے …. چندمنٹوں میں لڑکی کے پرس کے پاس تفتیشی کمیٹی پہنچ چکی ہے ،لڑکی نے پرس کو زورسے پکڑ لیاگویا وہ خاموش زبان سے کہنا چاہتی ہوکہ آپ لوگ اسے ہرگزنہیں کھول سکتے ، اسے کہاجارہا ہے ،پرس کھولو! تفتیش کی طرف دیکھ رہی ہے اور زبان بند ہے ،پرس کو سینے سے چپ...کا لی ہوئی ہے ، تفتیش نے پھرکہا : پرس ہمارے حوالے کرو،لڑکی زور سے چلاکر بولتی ہے : نہیں میں نہیں دے سکتی ۔ پوری تفتیشی کمیٹی اس لڑکی کے پاس جمع ہوگئی ،سخت بحث ومباحثہ شروع ہوگیا ۔ ہال کی ساری طالبات پریشان ہیں ،آخر رازکیا ہے ؟حقیقت کیا ہے ؟ بالآخر لڑکی سے اس کا پرس چھین لیا گیا،ساری لڑکیاں خاموش ….لکچر بند …. ہر طرف سناٹا چھا چکا ہے۔پتہ نہیں کیا ہوگا …. پرس میں کیاچیز ہے ؟تفتیشی کمیٹی طالبہ کا پرس لیے کالج کے آفس میں گئی ،طالبہ آفس میںآئی ،ادھراس کی آنکھوں سے آنسوو ں کی بارش ہورہی تھی ،سب کی طرف غصہ سے دیکھ رہی تھی کہ بھرے مجمع کے سامنے اسے رسوا کیا گیا تھا ، اسے بٹھایا گیا، کالج کی ڈائرکٹر نے اپنے سامنے پرس کھلوایا، طالبہ نے پرس کھولا ،یااللہ ! کیاتھا پرس میں ….؟ آپ کیا گمان کرسکتے ہیں ….؟پرس میں کوئی ممنوع شے نہ تھی ،نہ فحش تصویریںتھیں ، واللہ ایسی کوئی چیز نہ تھی …. اس میں روٹی کے چند ٹکڑ ے تھے ، اور استعمال شدہ سنڈویچ کے باقی حصے تھے ، بس یہی تھے اورکچھ نہیں ۔ جب اس سلسلے میں اس سے بات کی گئی تو اس نے کہا : ساری طالبات جب ناشتہ کرلیتی ہیں تو ٹوٹے پھوٹے روٹی کے ٹکڑے جمع کرلیتی ہوں جس میں سے کچھ کھاتی ہوں اور کچھ اپنے اہل خانہ کے لیے لے کر جاتی ہوں۔ جی ہاں! اپنی ماں اور بہنوں کے لیے ….تاکہ انہیں دوپہر اور رات کا کھانا میسر ہو سکے ۔ ہم تنگ دست ہیں ،ہماری کوئی کفالت کرنے والا نہیں، ہماری کوئی خبر بھی نہیں لیتا ۔ اور پرس کھولنے سے انکار کرنے کی وجہ صرف یہی تھی کہ مبادا میری کلاس کی سہیلیاں میری حالت کو جان جائیں اور مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے ۔ میری طرف سے بے ادبی ہوئی ہے تواس کے لیے میں آپ سب سے معافی کی خواستگار ہوں۔یہ دلدوز منظر کیاتھا کہ سب کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ،اللہ پاک ہر شخص کو ایسی مجبوری سے بچائے ،اور ایسے بُرے دن کسی کو نہ دیکھنے پڑیں ۔ ! یہ منظر ان مختلف المناک مناظر میں سے ایک ہے، جو ممکن ہے ہمارے پڑوس میں ہو اور ہم اسے نہ جانتے ہوں،یا بسا اوقات ایسے لوگوں سے نظریں اوجھل کئے ہوئے ہوں‬‎.

‎‫ایک دفعہ ایک ملک کا

‫ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ وہ اپنی بادشاہت اس ...کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا، سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا، اسی دوران ایک کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا ۔ اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا اس نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کرلے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا اس کے پاس تھا ہی کیا ایک گدھا اور بس! سو اس نے اعلان کر دیاکہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارے گا۔ بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی اور وعدے کے مطابق کمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا، اور لوگوں نے قبر کو بند کر دیا، کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور اسکو کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو۔ اس نے کہا بھائی حساب کس چیز کا میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے!!! فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے لیکن پھر ایک دم رکے اور بولے ذرا اس کا نامہ اعمال کھول کر دیکھیں اس میں کیا ہے، بس پھر کیا تھا، سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھئی فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا، اس نے جواب دیا ہاں، فوری طور پر حکم ہوا کہ اسکو سو د'رے مارے جائیں،اسکی خوب دھنائی شروع ہو گئی۔ اسکے بعد پھر فرشتوں نے سوال کیا اچھا یہ بتاو فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لاد کر اسکو مارا تھا، اس نے کہا کہ ہاں پھر حکم ہوا کہ اسکو دو سو د'رے مارے جائیں، پھر مار پڑنا شروع ہوگئی۔ غرض صبح تک اسکو مار پڑتی رہی۔ صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں۔ جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی، لوگوں نے پوچھا بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں، تو اس نے جواب دیا، او بھائیوں پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو پوری رعایا اور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے۔ کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کس کس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے —‬

بدھ، 12 جون، 2013

‎ا‫یک پروفیسر نے اپنی ک

‫یک پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا - اس نے وہ گلاس بلند کر دیا تا کہ تمام طلبہ اسے دیکھ لیں پھر اس نے طالب علموں سے سوال کیا " تمھارے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا ؟ " " پچاس گرام ! " " سو گرام ! " " ایک سو پچیس گرام " لڑکے اپنے اپنے اندازے سے جواب دینے لگے - " میں خود صحیح وزن نہیں بتا سکتا جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کر لوں ! " پروفیسر نے کہا ! " مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں ؟" کچھ نہیں ہوگا ! تمام طالب علموں نے جواب دیا - ٹھیک ہے اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یونہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا ؟ آپ کے بازو میں درد شروع ہو جائے گا - تم نے بلکل ٹھیک کہا - پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا - اب یہ بتاؤ کہ اس گلاس کو میں دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو کیا ہوگا ؟ آپ کا بازو سن ہو سکتا ہے ایک طالب علم نے کہا آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے دوسرے نے کہا آپ پر فالج کا حملہ ہو سکتا ہے لیکن آپ کو اسپتال تو لازمی جانا پڑیگا ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری کلاس قہقہے لگانے لگی - بہت اچھا ! پروفیسر نے برا نہ مناتے ہوئے کہا - لیکن اس تمام دوران میں کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا ؟ نہیں - طالب علموں نے جواب دیا - تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا ؟ طالب علم چکرا گئے - گلاس نیچے رکھ دیں - ایک طالب علم نے کہا - بلکل صحیح ...! پروفیسر نے کہا " ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں آپ انھیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں - انھیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ سر کا درد بن جائیں گے انھیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کر دیں گے آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے - اپنی زندگی کے چیلنجز کے بارے میں سوچنا یقینن اہمیت رکھتا ہے لیکن " اس سے کہیں زیادہ اہم ہر دن کے اختمام پر سونے سے پہلے انھیں ذہن پر سے اتار دینا ہے - اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے - ہر روزصبح آپ تر و تازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہونگے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کر سکیں گے لہٰذا گلاس کو نیچے رکھنا یاد رکھیں‬

منگل، 11 جون، 2013

‎‫انوکھی سزا‬‎


‫انوکھی سزا کہتے ہیں کہ ایک امریکی ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو ایک روٹی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا،اس نے بجائے انکار کے اعتراف کیا کہ اُس نے چوری کی ہے اور جواز یہ دیا کہ وہ بھوکا تھا اور قریب تھا کہ وہ مر جاتا ! جج کہنے لگا '' تم اعتراف کر رہے ہو کہ تم چور ہو ،میں تمہیں دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس یہ رقم نہیں اسی لیے تو تم نے روٹی چوری کی ہے ،لہٰذا میں تمہاری طرف سے یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں '' مجمع پر سناٹا چھا جاتا ہے،اور لوگ دیکھتے ہیں کہ جج اپنی جیب سے دس ڈالر نکالتا ہے اور اس بوڑھے شخص کی طرف سے یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرنے کا حکم دیتا ہے پھر جج کھڑا ہوتا ہے اور حاضرین کو مخاطب کر کے کہتا ہے '' میں تمام حاضرین کو دس دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اس لیے کہ تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں ایک غریب کو پیٹ بھرنے کے لیے روٹی چوری کرنا پڑی '' اُس مجلس میں 480 ڈالر اکھٹے ہوئے اور جج نے وہ رقم بوڑھے '' مجرم '' کو دے دی۔ کہتے ہیں کہ یہ قصہ حقیقت پر مبنی ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں غریب لوگوں کی مملکت کی طرف سے کفالت اسی واقعے کی مرہون منت ہے ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چودہ سو سال پہلے ہی یہ کام کر گئے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کا وظیفہ جاری کرنے کے حکم دے دیا) غور کیجئے : کبھی کبھی ایک شخص کی سوچ پوری قوم کو بدل دیتی ہے‬


‎‫سعودی عرب کے خوبصورت

‫سعودی عرب کے خوبصورت شہر ابھاء میں ایک لڑکی کی شادی تھی مغرب کی نماز کے بعد اسکا میک اپ وغیرہ کیا گیا جیسا کہ دلہن کو سجایا جاتا ہے ۔ اسی اثنا میں ان لڑکی نے عشاء کی اذان سنی اس نے نیچے جانے سے پہلے عشاء کی نماز پڑھنا مناسب سمجھا۔ لڑکی نے اپنی ماں سے کہا کہ میں وضو کر کے نماز پڑھنے لگی ہوں تو لڑکی کی ماں حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی کیا تم پاگل ہو ؟ مہمان تمہیں دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں اور تمہارے میک اپ اور بناؤ سنگار کا کیا ہو گا؟ یہ تو سارا پانی سے دھل جائے گا میں تمہاری ماں ہوں اور تمہیں نماز نہ پڑھنے کا حکم دیتی ہوں اور کہا واللہ اگر تم نے ابھی وضو کیا تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی بیٹی نے کہا اللہ کی قسم میں یہاں سے تب تک نہ جاؤں گی جب تک نماز ادا نہ کر لوں، میں کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنے اللہ کی نا فرمانی نہیں کر سکتی ۔ اسکی ماں نے کہا مہمان تمہیں میک اپ کے بغیر دیکھ کر کیا کہیں گے؟ وہ تمہارا مذاق اڑائیں گے اور تم کسی کو بھی اچھی نہیں لگو گی لڑکی ماں کی بات سنکر مسکراتے ہوئے بولی آپ اس لیے پریشان ہو رہی ہو کہ میں لوگوں کی نظر میں خوبصورت نہیں لگوں گی لیکن میں تو اپنے پیدا کرنے والے کی نظر میں خوبصورت بننا چاہتی ہوں۔ لڑکی نے وضو کیا جس کی وجہ سے اسکا سارا میک اتر گیا لیکن اسے میک اپ خراب ہونے کا کوئی افسوس نہیں تھا اور نہ ہی لوگوں کے اچھا برا کہنے کا کوئی خیال تھا کیوں کہ اسے لوگوں سے زیادہ اپنے اللہ سبحانہُ و تعالی کے سامنے سرخرو ہونا تھا اس نے نماز شروع کی اور حالت سجدہ میں وہ لطف پایا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اسے تو پتا بھی نہیں تھا کہ یہ اسکی زندگی کا آخری سجدہ ہو گا، جی ہاں وہ لڑکی حالت سجدہ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملی ۔ کیا خوبصورت اور عظیم اختتام تھا وہ اللہ کو قریب کرنا چاہتی تھی اللہ عزوجل نے اُسے اس حالت سجدہ میں اپنے قریب کیا جہاں ہر مسلمان اللہ کے قریب ہوتا ہے اگر آپ میں سے کوئی اس لڑکی کی جگہ ہوتا تو کیا کرتا یقیناً نماز کو ہی چھوڑا جاتا، جبکہ زندگی کا ایک منٹ کا بھی بھروسہ نہں ہے ۔ اگر آپ اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلی فرمانبرداری اسی کی ہے دنیا کے کاموں کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا پر دنیاوی کاموں کے لیے اللہ کو (جس نے پیدا کیا اور مارے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا) بھول جانا سب سے بڑی بیوقوفی ہے‬

پیر، 10 جون، 2013

‎‫سعودی عرب میں، ماہ ر

‫سعودی عرب میں، ماہ رمضان میں، ایک پاکستانی، ایک سری لنکن اور ایک انڈین بیٹھے سمگل شدہ ڈرنک (قول غالب ہے کہ مینگو لسی) پی رہے تھے اچانک ایک شرتہ (پُلسیا) ادھر سے گزرا اور اس نے کہا "اوئے آپ کو پتہ نہیں رمضان میں ڈرنک پینا جرم ہے" وہ ان تینوں کو گرفتار کر کے قاضی کے پاس لے گیا ۔ قاضی نے ہر ایک کو 20 کوڑے لگانے کا حکم جاری کیا- سزا پر عملدرآمد سے پہلے قاضی نے کہا چونکہ رمضان کا رحمت کا عشرہ چل رہا ہے اس لیے تم میں سے ہر ایک 20 کوڑوں کی سزا کا طریقہ اپنی مرضی سے پسند کر سکتا ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے سری لنکن سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اسکی پشت پر ایک تکیہ باندھ دیا جائے۔ خواہش پوری کی گئی لیکن 5 کوڑوں کے بعد تکیہ پھٹ گیا اور باقی کوڑے اسکو ننگی پشت پر برداشت کرنے پڑے۔ اب انڈین کی باری تھی اس نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ 3 تکیے اسکی پشت پر باندھ کر کوڑے مارے جائیں۔ یہ خواہش بھی پوری کی گئی لیکن 3 تکیے صرف 10 کوڑوں کی تاب لا سکے باقی کے کوڑے اسکی پشت کو سہنے پڑے۔ اب قاضی پاکستانی مجرم سے مخاطب ہوا۔ "تم چونکہ ہمارے برادر اسلامی ملک سے ہو اس لیے تم 2 خواہش کر سکتے ہو" پاکستانی نے کہا "قاضی صاحب ! مجھے 20 کی بجائے 40 کوڑے لگائے جائیں۔" قاضی حیرانی و پریشانی کے عالم میں بولا "ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتے ہو تو ! لیکن اب دوسری خواہش بولو" پاکستانی نے کہا "اب میری پیٹھ پر اس انڈین کو باندھ دو" اور اسکی یہ خواہش بھی پوری کر دی گئی۔‬‎