پیر، 10 جون، 2013
ایک تاریک رات، آسمان
ایک تاریک رات، آسمان پر ستارے چمک رہے ہیں، حضرت عائشہؓ رضه آسمان کی طرف دیکھ کر (صلی اللہ علیہ واله وسلم ) سے فرماتی ہیں: اے حضور(صلی اللہ علیہ واله وسلم ) کیا کوئی انسان اییسا بھی ہے کہ جس کی اتنی نیکیاں ہوں، جتنا کہ آسمان پر ستارے ہیں! ہمارے حضور(صلی اللہ علیہ واله وسلم ) نے جواب دیا:ہاں ایسا شخص موجود ہے اور وہ ہے عمرؓ ابن خطاب !! حضرت عائشہؓ بہت حیران ہویئں کیونکہ انہیں اس جواب کی توقع نہیں تھی، انہوں نے سوچا تھا کہ شاید حضور(صلی اللہ علیہ واله وسلم ) انکے والد ابوبکر صدیقؓ کا نام لیں گے! حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اے حضور(صلی اللہ علیہ واله وسلم ) کیا میرے والد کی اتنی بھی نیکیاں نہ ہو سکیں؟؟ میرے والد تو وہ تھے کہ آپ بیٹھے ابوبکر بیٹھے، آپ کھڑے ہوۓ، ابوبکر کھڑے ہوۓ، آپ سوۓ، ابو بکر سوۓ، وہ ساری زندگی آپکا سایہ بن کر رہے کیا وہ اتنی بھی نیکیاں نہ کما سکے؟؟ حضور (صلی اللہ علیہ واله وسلم ) مسکرا کر جواب دیا :اے عائشہ عمر کی عمر بھر کی نیکیاں، ابوبکر کی ایک نیکی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں! سبحان اللہ، یہ تھا مقام ہمارے اصحاب کا، اور حضرت عمرؓ نے جب یہ سنا تھا تو وہ ابوبکرؓ سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اے ابوبکرؓ میری ساری نیکیاں لے لے اور اپنے بدلے کی صرف ایک نیکی مجھے دے دے!!.
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں