بہت، بہت پہلے جاپان میں ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی رہتے تھے. اُن کی کوئ
اولاد نہ تھی۔بوڑھا آدمی ایک اچھا، دیالو، محنتی انسان تھا، لیکن اس کی بیوی
ایک بدزبان، جھگڑالو عورت تھی جو اُس کی ہر خوشی برباد کرنے کی کوئ کسر نہ
چھوڑ تی۔ بوڑھے آدمی نے ہمیشہ اپنی بیوی کی بدزبانی اور لڑائ جھگڑے کو درگزر
کیا تھا۔ اُس نے اپنا دل بہلانے کو ایک پیاری سی چڑیا پال رکھی تھی، جسکو وہ
"سوزومے سان" (مس چڑیا)کہتا تھا۔ دن بھر وہ محنت مزدوری میں مصروف رہتا اور
شام میں اپنا وقت چڑیا سے باتیں کرنے اور کھیلنے میں گزارتا۔وہ چڑیا سے بلکل
اُس طرح محبت کرتا جیسے وہ اُس کی اولاد ہو۔ بوڑھی عورت کو چڑیا سے شدٌید
نفرت ہونے لگی۔وہ روز جھگڑا کرتی کہ چڑیا کو باہر نکال دو مگر بوڑھا آدمی
انکار کردیتا تھا۔ ایک دن بوڑھا آدمی جنگل میں لکڑی کاٹنے گیا،بوڑھی عورت نے
کپڑے دھونے کے لئے کچھ نشاستہ بنا تھا،جب وہ کپڑے دھونے آئ تو دیکھا کہ
نشاستہ غائب ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی چڑیا اُڑتی ہوئ آئ اور سر جھکا
کر بولی: یہ نشاستہ میں نے کھایا ہے،میں سمجھی کہ مالک نے میرے کھانے کے لئے
رکھا ہے، مجھ سے غلطی ہوگئ مھے معاف کردیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ چڑیا کی
سچائ اور معافی مانگنے پر اُسے معاف کر دیا جاتا مگر بوڑھی عورت اتنی ظالم
تھی کہ اُسے تو چڑیا کو نکالنے کا موقع مل گیا اور وہ بولی: مجھے یقین ہے کہ
تم نے اپنی اس زبان سے میرا نشاستہ کھایا ہوگا،سزا تو تم کو ملے گی اور یہ
کہہ کر اُس نی چھری سے معصوم پرندہ کی زبان کاٹ دی اور پھر یہ کہہ کر گھر سے
نکال دیا کہ وہ چور ہے۔ شام کو بوڑھا آدمی کے گھر آیا تو دیکھا کہ چڑیا غائب
ہے،اُس نے اپنی بیوی سے جب پوچھا کہ "سوزومے سان" (مس چڑیا) کہاں ہے؟ تو پہلے
تو وہ ٹالتی رہی مگر جب بوڑھے آدمی نے غصہ سے پوچھا تو سارا واقعہ بتادیا اور
ساتھ ہی کٹی ہوئ زبان بھی دیکھادی۔ پیچارہ بوڑھا پہلے تو بہت دکھی ہوا اور
پھر بہت سے آنسو بہانے کے بعد چڑیا کو ڈھونڈنے گھر سے باہر نکل گیا۔ ساری رات
وہ "سوزومے سان" کو پکارتا رہا اور ڈھونڈتا رہا، طلوع صبح کے وقت اُسے یاد
آیا کہ چڑیا نے اُسے بتایا تھا کہ اُس کی نسل کے پرندے بانس کے جنگل میں رہتے
ہیں۔بوڑھا آدمی وہاں گیا اور یہ دیکھ کر پھولے نہ سمایا کہ "سوزومے سان" وہاں
خیریت سے اپنے خاندان والوں کے ساتھ موجود تھی۔ چڑیا نے بھی جب اپنے بوڑھے
مالک کی یہ محبت دیکھی تو اُس کی خوب خاطر تواضع کی،آخر بوڑھا آدمی بولا:
"سوزومے سان" تم کو خیریت سے دیکھ لیا،اب چلتا ہوں، اور اپنی بیوی کے ہر بُرے
رویہ اور حرکت کی معافی مانگتا ہوں۔ اگر اجازت ہو تو کبھی ملنے آجاؤں؟ چڑیا
نے اپنے مالک کو بولا کہ وہ ضرور آیا کرے اُسے خوشی ہوگی اور ساتھ ہی کچھ
باکس منگوائے کہ یہ "سوزومے سان" کی طرف سے تحفہ ہے۔ بوڑھے آدمی نے صرف ایک
چھوٹا ڈبٌہ اُٹھا لیا کہ وہ بوڑھا ہے زیادہ وزن نہی اُٹھا سکتا اور ویسے بھی
اُسے صرف "سوزومے سان" کی خیریت مطلوب تھی۔ جب بوڑھا آدمی گھر پہنچا تو حسب
معمول اُس کی بیوی نے جھگڑا شروع کردیا مگر جب اُس نے ساری بات بتائ اور ساتھ
ہی تحفے والا باکس دیکھایا تو وہ چُپ ہوئ۔ پھر دونوں نے باکس کھولا تو حیران
رہ گئے کہ وہ ہیرے جواہیرات سے بھرا ہوا تھا۔ اب بوڑھی عورت نے دوبارہ جھگڑا
شروع کردیا کہ بڑا والا باکس کیوں نہ اُٹھایا اور بولی کہ اُسے چڑیا کا پتہ
دے کہ وہ خود لے آئے۔ تنگ آکر بوڑھے نے پتہ بتادیا۔ اگلے دن بڑھیا وہاں پہنچ
گئ اور بغیر کسی شرم و لحاظ کے بدتمیزی سے بولی کہ بڑا والا باکس چاہئے۔ چڑیا
نے بغیر کچھ بولے باکس دے دیا۔ بڑھیا نے شکریہ بھی نہی کہا اور واپسی کے لئے
چل پڑی۔ ایک تو باکس اتنا بھاری اوپر سے بڑھیا کا لالچ کہ اُس نے راستہ میں
ہی باکس کھول لیا۔ باکس کھلتے ہی بڑھیا کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ وہ خطرناک
بلاؤں سے بھرا ہوا تھا۔ بڑھیا نے سب کچھ پھینکا اور گھر کو بھاگی اور اپنے
شوہر کو سب قصٌہ بتایا۔ اور حسب عادت چڑیا پر الزام لگایا۔ پوڑھے آدمی نے
اپنی بیوی کو بولا کہ یہ ہمارے اعمال اور رویہ کی وجہ سے ہے، کسی کے ساتھ
اچھا کرو گے تو اچھا پاؤگے اور بُرا کرو گے تو بُرا پاؤگے۔ بوڑھی عورت کو
اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور اُس نے اپنے شوہر سے معافی مانگی اور توبہ کی
کہ نہ تو آئیندہ لڑائ جھگڑا کرے گی اور نہ کسی کا بُرا چاہے گی
اولاد نہ تھی۔بوڑھا آدمی ایک اچھا، دیالو، محنتی انسان تھا، لیکن اس کی بیوی
ایک بدزبان، جھگڑالو عورت تھی جو اُس کی ہر خوشی برباد کرنے کی کوئ کسر نہ
چھوڑ تی۔ بوڑھے آدمی نے ہمیشہ اپنی بیوی کی بدزبانی اور لڑائ جھگڑے کو درگزر
کیا تھا۔ اُس نے اپنا دل بہلانے کو ایک پیاری سی چڑیا پال رکھی تھی، جسکو وہ
"سوزومے سان" (مس چڑیا)کہتا تھا۔ دن بھر وہ محنت مزدوری میں مصروف رہتا اور
شام میں اپنا وقت چڑیا سے باتیں کرنے اور کھیلنے میں گزارتا۔وہ چڑیا سے بلکل
اُس طرح محبت کرتا جیسے وہ اُس کی اولاد ہو۔ بوڑھی عورت کو چڑیا سے شدٌید
نفرت ہونے لگی۔وہ روز جھگڑا کرتی کہ چڑیا کو باہر نکال دو مگر بوڑھا آدمی
انکار کردیتا تھا۔ ایک دن بوڑھا آدمی جنگل میں لکڑی کاٹنے گیا،بوڑھی عورت نے
کپڑے دھونے کے لئے کچھ نشاستہ بنا تھا،جب وہ کپڑے دھونے آئ تو دیکھا کہ
نشاستہ غائب ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی چڑیا اُڑتی ہوئ آئ اور سر جھکا
کر بولی: یہ نشاستہ میں نے کھایا ہے،میں سمجھی کہ مالک نے میرے کھانے کے لئے
رکھا ہے، مجھ سے غلطی ہوگئ مھے معاف کردیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ چڑیا کی
سچائ اور معافی مانگنے پر اُسے معاف کر دیا جاتا مگر بوڑھی عورت اتنی ظالم
تھی کہ اُسے تو چڑیا کو نکالنے کا موقع مل گیا اور وہ بولی: مجھے یقین ہے کہ
تم نے اپنی اس زبان سے میرا نشاستہ کھایا ہوگا،سزا تو تم کو ملے گی اور یہ
کہہ کر اُس نی چھری سے معصوم پرندہ کی زبان کاٹ دی اور پھر یہ کہہ کر گھر سے
نکال دیا کہ وہ چور ہے۔ شام کو بوڑھا آدمی کے گھر آیا تو دیکھا کہ چڑیا غائب
ہے،اُس نے اپنی بیوی سے جب پوچھا کہ "سوزومے سان" (مس چڑیا) کہاں ہے؟ تو پہلے
تو وہ ٹالتی رہی مگر جب بوڑھے آدمی نے غصہ سے پوچھا تو سارا واقعہ بتادیا اور
ساتھ ہی کٹی ہوئ زبان بھی دیکھادی۔ پیچارہ بوڑھا پہلے تو بہت دکھی ہوا اور
پھر بہت سے آنسو بہانے کے بعد چڑیا کو ڈھونڈنے گھر سے باہر نکل گیا۔ ساری رات
وہ "سوزومے سان" کو پکارتا رہا اور ڈھونڈتا رہا، طلوع صبح کے وقت اُسے یاد
آیا کہ چڑیا نے اُسے بتایا تھا کہ اُس کی نسل کے پرندے بانس کے جنگل میں رہتے
ہیں۔بوڑھا آدمی وہاں گیا اور یہ دیکھ کر پھولے نہ سمایا کہ "سوزومے سان" وہاں
خیریت سے اپنے خاندان والوں کے ساتھ موجود تھی۔ چڑیا نے بھی جب اپنے بوڑھے
مالک کی یہ محبت دیکھی تو اُس کی خوب خاطر تواضع کی،آخر بوڑھا آدمی بولا:
"سوزومے سان" تم کو خیریت سے دیکھ لیا،اب چلتا ہوں، اور اپنی بیوی کے ہر بُرے
رویہ اور حرکت کی معافی مانگتا ہوں۔ اگر اجازت ہو تو کبھی ملنے آجاؤں؟ چڑیا
نے اپنے مالک کو بولا کہ وہ ضرور آیا کرے اُسے خوشی ہوگی اور ساتھ ہی کچھ
باکس منگوائے کہ یہ "سوزومے سان" کی طرف سے تحفہ ہے۔ بوڑھے آدمی نے صرف ایک
چھوٹا ڈبٌہ اُٹھا لیا کہ وہ بوڑھا ہے زیادہ وزن نہی اُٹھا سکتا اور ویسے بھی
اُسے صرف "سوزومے سان" کی خیریت مطلوب تھی۔ جب بوڑھا آدمی گھر پہنچا تو حسب
معمول اُس کی بیوی نے جھگڑا شروع کردیا مگر جب اُس نے ساری بات بتائ اور ساتھ
ہی تحفے والا باکس دیکھایا تو وہ چُپ ہوئ۔ پھر دونوں نے باکس کھولا تو حیران
رہ گئے کہ وہ ہیرے جواہیرات سے بھرا ہوا تھا۔ اب بوڑھی عورت نے دوبارہ جھگڑا
شروع کردیا کہ بڑا والا باکس کیوں نہ اُٹھایا اور بولی کہ اُسے چڑیا کا پتہ
دے کہ وہ خود لے آئے۔ تنگ آکر بوڑھے نے پتہ بتادیا۔ اگلے دن بڑھیا وہاں پہنچ
گئ اور بغیر کسی شرم و لحاظ کے بدتمیزی سے بولی کہ بڑا والا باکس چاہئے۔ چڑیا
نے بغیر کچھ بولے باکس دے دیا۔ بڑھیا نے شکریہ بھی نہی کہا اور واپسی کے لئے
چل پڑی۔ ایک تو باکس اتنا بھاری اوپر سے بڑھیا کا لالچ کہ اُس نے راستہ میں
ہی باکس کھول لیا۔ باکس کھلتے ہی بڑھیا کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ وہ خطرناک
بلاؤں سے بھرا ہوا تھا۔ بڑھیا نے سب کچھ پھینکا اور گھر کو بھاگی اور اپنے
شوہر کو سب قصٌہ بتایا۔ اور حسب عادت چڑیا پر الزام لگایا۔ پوڑھے آدمی نے
اپنی بیوی کو بولا کہ یہ ہمارے اعمال اور رویہ کی وجہ سے ہے، کسی کے ساتھ
اچھا کرو گے تو اچھا پاؤگے اور بُرا کرو گے تو بُرا پاؤگے۔ بوڑھی عورت کو
اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور اُس نے اپنے شوہر سے معافی مانگی اور توبہ کی
کہ نہ تو آئیندہ لڑائ جھگڑا کرے گی اور نہ کسی کا بُرا چاہے گی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں